0

بلوچستان میں ہولناک زلزلہ، 20 جاں بحق، 300 سے زائد زخمی

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ، سبی، ہرنائی، پشین، قلعہ سیف اللہ ، چمن، زیارت اور ژوب سمیت کئی علاقوں میں رات 3 بج کر 2 منٹ پر زلزلے کےشدید  جھٹکے محسوس کیے گئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز ہرنائی سے 15 کلو میٹر دور کا علاقہ تھا۔

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

پروو نشل ڈیزاسٹر میجنمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کا کہنا ہے کہ  زلزلے کے باعث مکانات کے ملبے تلے دب کر 20 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

زلزلے کے باعث زخمی ہونے والے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں زخمی ہونے والوں کو ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور کوئٹہ کے سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر  ہرنائی کا کہنا ہے کہ ہرنائی میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے  جبکہ ملبے تلے کئی افراد دبے ہوئے ہیں اور  علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی ہے۔ 

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے اور  پہاڑی تودے گرنے سے کئی رابطہ سڑکیں بھی بند ہو گئی ہیں، ہرنائی سنجاوی روڈ کی بحالی کیلئے لیویز  اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ لورالائی ہرنائی شاہراہ بھی بند ہو گئی ہے جس کے باعث ہرنائی میں آج تعلیمی ادارے بند ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق لیویز اور ریسکیو ٹیمیں لوگوں کی مدد کیلئے روانہ کر دی گئیں ہیں اور لوگوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

ریسکیو ذرائع کے مطابق  ہرنائی میں 70 سےزائد مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

قبل ازیں وزیر داخلہ بلوچستان ضیااللہ لانگو نے زلزلے کے نتیجے میں 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔

فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

وزیر داخلہ بلوچستان کے مطابق پی ڈی ایم اے نے کوئٹہ سےہیوی مشینری اور  ریسکیو ٹیمیں  روانہ کر دی ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ زیارت، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں بھی نقصانات کی اطلاعات ہیں جبکہ زلزلے سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہرنائی میں ہوا۔

ضیااللہ لانگو کے مطابق کافی تعداد میں لوگ گرنےوالی عمارتوں کے ملبےمیں دبےہوئے ہیں جنھیں نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں