0

بلوچستان میں عوام کو روزگار کی فراہمی کیلیے این جی او کا خود کفیل پروگرام

سماجی ادارے کے تحت ملک بھر 2500خاندانوں کو خود کفیل بنایا گیا، آرگنائزیشن فارسوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹوز کے ہیڈ ٹرسٹی
بلوچستان میں عوام کو روزگار کی فراہمی کے لیے خود کفیل پروگرام شروع کردیا گیا۔بلوچستان میں عوام کو روزگار کی فراہمی کے لیے خود کفیل پروگرام شروع کردیا جب کہ اس پروگرام کے تحت عوام کو مقامی سطح زرعی ترقی، گلہ بانی اور چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلیے 60 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک کی مالی سپورٹ فراہم کی گئی جس سے مستفید ہونیوالے افراد کی ماہانہ فی کس آمدنی جو پہلے انتہائی محدود تھی اب بڑھ کر 15 سے 20 ہزار روپے ہوگئی ہے۔خود کفیل پروگرام ایک غیرسرکاری اور غیر منافع بخش سماجی ادارے آرگنائزیشن فارسوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹوز نے شروع کیا ہے جس سے اب تک 280 سے زائد خاندان مستفید ہوچکے ہیں اور یہ خاندان مالی طور نہ صرف مستحکم ہوئے ہیں بلکہ دیگر افراد کو بھی خود کفیل بنانے میں اس سماجی ادارے کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔سماجی ادارے آرگنائزیشن فارسوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹوز کے ہیڈ ٹرسٹی عاصم صدیقی نے بتایا کہ ان کے سماجی ادارے کے تحت ملک بھر 2500خاندانوں کو خود کفیل بنایا گیا ہے۔ محدود مالی تعاون اور منصوبہ بندی کے تحت یہ افراد مختلف کاروبار کررہے ہیں۔آئندہ اس پروگرام کا دائرکار بڑھایا جائے گا۔آرگنائزیشن فارسوشل ڈیولپمنٹ انیشیٹوز کے پروگرام ہیڈ شہریار ندیم خان نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت تین منصوبوں میں لوگوں کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ پہلا منصوبہ زرعی ترقی ہے۔ اس منصوبے کے تحت چھوٹے کاشت کار جن کے پاس تین ایکڑ یا اس سے زائد زمین ہے، ان کو ایک فصل کے لیے 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کے بیج ، کھاد فراہم کی گئی اور کاشت کاری جدید کے طریقوں کو استعمال کرنے کی تربیت فراہم کی جس کے نتیجے میں فصل کی پیداوار میں 150 فیصد اضافہ ہوا اور ہر کاشت کار گھرانے کو ڈھائی سے 3 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔پروجیکٹ کے دوسرے منصوبے کے تحت 100گھرانوں کو دو بکریاں اور ایک بکرا فراہم کیا گیا۔ ان جانوروں کی افزائش نسل کی وجہ سے ان گھرانوں کی سالانہ آمدنی میں 100 فیصد اضافہ ہو ا۔ اس پروگرام کے تیسرے منصوبے کے تحت 20 خاندانوں کو 50 سے 80 ہزار روپے کی مالیت کا چھوٹا کاروبار شروع کروا کر دیا گیا۔اس پروجیکٹ کے ذریعہ نہ صرف لوگوں کو روزگار حاصل ہوا بلکہ وہ مالی طور پر خود کفیل بھی ہو گئے۔پروگرام ہیڈ شہریار ندیم خان اور لسبیلہ میں روزگار پروگرام کے منیجر بابر جیند نے بتایا کہ ضلع لسبیلہ میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے 7 مقامات پر سولر واٹر فلٹر پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ اس سے کئی ہزار افراد مستفید ہوتے ہیں۔سماجی ادارے کی جانب سے ضلع میں 21 اسکول قائم کے گئے ہیں جن میں 1977بچے زیر تعلیم ہیں۔ ان میں سے بیشتر اسکولز نیشنل کمیشن فار ہیومین ڈیویلمنٹ کے حوالے کیے گئے ہیں۔ ہر ماہ مختلف دیہات میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہاں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضلعی اسپتال لسبیلہ کو بھی اپ گریڈ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں