0

ٹک ٹاک کو راز داری کے قوانین کی خلاف ورزی پر کڑی تنقید کا سامنا

برلن: چین کی مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کو یورپی یونین کی صارفین کی تنظیم جانب سے رزداری قوانین کی خلاف ورزی کرنے اور بچوں سے پوشیدہ اشتہارات اور نامناسب مواد چھپانے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی صارفین کی تنظیم ’’ بی ای یو سی‘‘  نے ٹک ٹاک کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔ یورپی یونین کی طاقتور گروپ کی سفارشات پر ٹک ٹاک کو پابندی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔یورپی یونین کے صارفین کے گروپ BEUC نے اپنی شکایات میں متعدد امور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کی  رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اور ایپ کی ذاتی معلومات کی حفاظت سے متعلق اقدامات ناقص ہیں۔یورپی صارفین کے گروپ نے مزید کہا کہ ٹک ٹاک بچوں اور نو عمر صارفین سے بے ہودہ اشتہارات اور نامناسب مواد بھی چھپانے میں ناکام رہا ہے اور خود اپنی خدمات کی شرائط پر عمل درآمد سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔بی ای یو سی کے مطابق ٹک ٹاک پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کے لئے کمپنی کے طریق کار گمراہ کن، غیر واضح اور مبہم ہیں جب کہ کاپی رائٹ کی شرائط بھی اتنی ہی غیر منصفانہ ہیں۔یورپی یونین کی تنظیم BEUC کے علاوہ دیگر 15 ممالک میں بھی صارفین کی تنظیموں نے اپنے حکام کو الرٹ جاری کیا ہے اور ان پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔صارفین کی جانب سے شکایتوں کے ڈھیر پر ٹک ٹک کے ترجمان نے کہا کہ ہم صارفین کی رائے کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں اور ہم نے اس حوالے سے ’’بی ای یو سی‘‘ سے رابطہ کیا ہے اور ہم ان کے خدشات سننے کے لیے ملاقات کا خیرمقدم کریں گے۔ٹک ٹاک کمپنی کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس نے اپنی نجی معلومات کی حفاظتی پالیسی کی ایک ’’ان ایپ‘‘ سمری تیار کی ہے تاکہ نوعمروں کو رازداری سے متعلق اپنے موقف کو سمجھنے میں آسانی ہو۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی صارفین کی تنظیم ’’ بی ای یو سی‘‘  نے ٹک ٹاک کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے۔ یورپی یونین کی طاقتور گروپ کی سفارشات پر ٹک ٹاک کو پابندی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔یورپی یونین کے صارفین کے گروپ BEUC نے اپنی شکایات میں متعدد امور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک کی  رازداری کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اور ایپ کی ذاتی معلومات کی حفاظت سے متعلق اقدامات ناقص ہیں۔یورپی صارفین کے گروپ نے مزید کہا کہ ٹک ٹاک بچوں اور نو عمر صارفین سے بے ہودہ اشتہارات اور نامناسب مواد بھی چھپانے میں ناکام رہا ہے اور خود اپنی خدمات کی شائط پر عمل درآمد سے بھی قاصر نظر آتا ہے۔بی ای یو سی کے مطابق ٹک ٹاک پر صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کے لئے کمپنی کے طریق کار گمراہ کن، غیر واضح اور مبہم ہیں جب کہ کاپی رائٹ کی شرائط بھی اتنی ہی غیر منصفانہ ہیں۔یورپی یونین کی تنظیم BEUC کے علاوہ دیگر 15 ممالک میں بھی صارفین کی تنظیموں نے اپنے حکام کو الرٹ جاری کیا ہے اور ان پر عمل کنے کی اپیل کی ہے۔صارفین کی جانب سے شکایتوں کے ڈھیر پر ٹک ٹک کے ترجمان نے کہا کہ ہم صارفین کی رائے کو ہمیشہ اہمیت دیتے ہیں اور ہم نے اس حوالے سے ’’بی ای یو سی‘‘ سے رابطہ کیا ہے اور ہم ان کے خدشات سننے کے لیے ملاقات کا خیرمقدم کریں گے۔ٹک ٹاک کمپنی کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس نے اپنی نجی معلومات کی حفاظتی پالیسی کی ایک ’’ان ایپ‘‘ سمری تیار کی ہے تاکہ نوعمروں کو رازداری سے متعلق اپنے موقف کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ٹاک ٹاک بچوں سے نامناسب مواد چھپانے میں بھی ناکام رہا،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں